13 جولائی 2026 - 19:25
امریکہ کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے، خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر

مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دے گا اور ہماری مسلح افواج امریکی فوج کی طرف سے، ایران کے متعین کردہ روٹ سے تجارتی اور تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت میں کسی بھی قسم کی خلل ڈالنے، اور غیر مجاز امریکی روٹ سے جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کی ہر قسم کی کوششوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دے گا اور ہماری مسلح افواج امریکی فوج کی طرف سے، ایران کے متعین کردہ روٹ سے تجارتی اور تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت میں کسی بھی قسم کی خلل ڈالنے، اور غیر مجاز امریکی روٹ سے جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کی ہر قسم کی کوششوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں گی۔

قرارگاه مرکزی حضرت خاتم الانبیاء(ص) کے اعلامئے کا متن درج ذیل ہے:

آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی غرض سے امریکہ کی بار بار مہم جوئیوں اور شرانگیزیوں نے علاقے کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور بدقسمتی سے امریکہ کے ساتھ بعض علاقائی ریاستوں کا تعاون بھی پورے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خطرے کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ اس بنیاد پر اعلان کیا جاتا ہے:

پچھلے انتباہات کے امتداد میں؛ ہم امریکہ کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دیتے اور نہیں دیں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج امریکی جارح اور رہزن فوج کی طرف سے ـ مسلح افواج کی اجازت کے بغیر ـ ایران کے متعین کردہ روٹ سے باہرغیر مجاز راستوں پر آمدورفت کرنے کی کوششوں اور ایران کے متعینہ روٹ پر تجارتی تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت میں کسی بھی قسم کا خلل ڈالنے یا بدامنی پھیلانے کے عزائم سے سختی کے ساتھ نمٹیں گی اور گذشتہ دنوں کے دوران سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے مؤثر اورٹھوس اقدامات اس دعوے کے گواہ ہیں۔

خطے کی ریاستوں کے سربراہوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون اور اس کے جارح فوج کو لاجسٹک سپورٹ، ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا اور اگر علاقے میں جنگ پھیلتی ہے تو جنگ کی آگ پوری علاقائی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بدامنی اور جنگ کے پھیلاؤ کی پوری ذمہ داری امریکہ اور اس کے حمایت یافتہ علاقائی حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha